نیویارک،27ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)امریکی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے پہلے مباحثے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو مات دے دی۔ امریکی ٹی وی کے پول کے مطابق 62فیصد نے ہیلری جبکہ 27فیصد نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں ووٹ دئیے۔ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دوبدو مباحثے میں ہیلری نے بتایا کہ ہم نے 30فیصد امریکی برآمدات میں اضا فہ کیا ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا میں نوکریاں ختم ہو تی جا رہی ہیں، تجارتی اور سیاسی معاہدوں کو دوبارہ دیکھنا ہو گا۔مباحثے میں 15 -15منٹ کے 6سیگمینٹ رکھتے گئے تھے، ہر امیدوار کو 2منٹ ملے، جس میں اسے اپنا جواب یا ردعمل دینا تھا، ٹرمپ نے بتایا کہ جب سے اوباما اقتدار میں آئے ہیں، 4ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اس لیے ہم کو پولیس اور کمیونٹی میں تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ پالیسیوں سے افریقی امریکی اور ہسپانوی افراد زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ہیلری نیکہا کہ غریبوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے امیروں پر ٹیکس لگا نا ہو گا، ٹرمپ کے منصوبے غیر مساوی اور امیروں کے لیے ہیں، میرے والد چھوٹے تاجر تھے، جنھوں نے نچلی سطح سے محنت کی، میرا تجربہ ٹرمپ سے مختلف ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا میں نوکریاں ختم ہو تی جا رہی ہیں، تجارتی اور سیاسی معاہدوں کو دوبارہ دیکھنا ہو گا میرے والد سے مجھے اتنا کچھ نہیں ملا جتنا سمجھا جاتا ہے۔ میں خود سے محنت کر کے آگے بڑھا ہوں۔ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ اپ اپنی دنیا میں رہے ہیں، نافٹا اچھی ڈیل تھی ہمیں 30سال تو نہیں ملے مگر ہم نے خا صا کام کیا ہم نے 30فیصد امریکی برآمدات میں اضا فہ کیا، ہم کو توانائی کے متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین اور دیگر ملکوں کے ساتھ تجارتی معاہدہ پر نظر ثانی کرنا ہو گی، وہ ہمارے ساتھ اچھا نہیں کر رہے۔ صرف ٹیکس لگا کر ہیلری کوئی بڑا کارنامہ نہیں کرسکتیں۔ہیلری نے بتایا کہ 8سال پہلے بدترین مالی بحران ہوا، وال اسٹریٹ کو مراعات دیں مگر وہاں مسائل دیکھے، اس بحران سے 9ملین افراد کی نوکریاں چلی گئیں، اب 8سال بعد معیشت بہتر ہو ئی ہے، نسلی امتیار بہت بڑا چیلنج ہے اور اسکولوں اور دفاتر میں یہ دیکھنے کو ملتا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ توانائی کے بہتر استعمال پر یقین رکھنے والا شخص ہوں ہمیں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ 30سال تک ان معاملات پر ڈیمو کریٹ کچھ نہیں کر پائے اب سب کیسے بدل جائے گا؟ یہ سب جھوٹ ہے۔ہیلری نے کہا کہ اس ضمن میں کئی اقدامات کرنے ہوں گے، اقلیوں اور کمیونیٹیز میں خلاء دور کر نا ہو گا۔ ہمیں کرمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور گن کلچر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے عام افراد کے ہاتھ میں اسلحہ آنا خطرناک ہے۔مباحثے کا ماحول اس وقت یکدم تبدیل ہوا، جب کلنٹن نے ٹرمپ کے انکم ٹیکس گوشواروں کا ذکر چھیڑا۔ کلنٹن نے کہا کہ ٹرمپ نے کبھی انکم ٹیکس ادا ہی نہیں کیا۔ ٹرمپ نے جوابی حملہ کرتے ہوئے ہلیری کلنٹن کی اُن نجی ای میلز کا ذکر کر ڈالا، جو انہوں نے اپنے سرکاری ای میل اکاؤنٹ سے کی تھیں۔ ٹرمپ نے اپنی حریف امیدوار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، وزارت خارجہ کے عہدے کے دوران ڈیلیٹ یا حذف کی گئی اپنی ای میلز عام کر دیں، میں انکم ٹکیس کے گوشوارے پیش کر دوں گا۔ ان کے بقول ، ہمارا ملک ہلیری کلنٹن جیسے لوگوں کی وجہ سے شدید متاثر ہوا ہے، جنہوں نے اپنے دور میں روزگار کی منڈی کے حوالے سے غلط فیصلے کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ابتدا میں ٹرمپ نے کلنٹن پر تابڑ توڑ حملے کیے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کلنٹن کی گرفت مظبوط ہوتی گئی اور بعد میں ایسا لگ رہا تھا جیسے مباحثہ کلنٹن کی مرضی سے ہی آگے بڑھ رہا ہو۔ اس دوران کئی مرتبہ ٹرمپ کا رویہ جارحانہ تھا اور انہوں نے بار بار اپنی حریف امیدوار کی گفتگو میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ مریکی صدارتی انتخابات میں اب تقریباً چھ ہفتے باقی بچے ہیں۔ اس دوران کلنٹن اور ٹرمپ مزید دو مرتبہ ٹی وی مباحثوں میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے۔ دوسرا مباحثہ نو اکتوبر جبکہ تیسرا انیس اکتوبر کو ہو گا۔ اندازے کے مطابق دونوں صدارتی امیدواروں کے مابین اس پہلے معرکے کو ایک سو ملین افراد نے ٹی وی پر دیکھا۔